یہ پابند مصیبت دل کے ہاتھوں ہم تو رہتے ہیں نہیں تو چین سے کٹتی نہ دل ہوتا نہ غم ہوتا

“Bound to misery, it is by this heart that I remain constrained; / Else life would pass in tranquil peace—had I no heart, no grief remained.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

ہم اس دل کے سبب ہی مصیبتوں کے پابند رہتے ہیں، ورنہ اگر دل ہی نہ ہوتا تو کوئی غم بھی نہ ہوتا اور زندگی آرام و سکون سے گزرتی۔

تشریح

اس خوبصورت شعر میں شاعر اپنے تمام دکھوں اور مصیبتوں کا ذمہ دار اپنے حساس دل کو ٹھہراتا ہے۔ وہ شکوہ کناں ہے کہ اگر سینے میں یہ تڑپنے والا دل ہی نہ ہوتا تو زندگی بڑے چین اور سکون سے کٹ جاتی، نہ کوئی تمنا ہوتی اور نہ اس کا غم۔ یہ انسانی جذبات کی وہ نازک کشمکش ہے جہاں دل ہمیں جینا تو سکھاتا ہے، مگر ساتھ ہی عمر بھر کی بے چینی اور درد کا اسیر بھی بنا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.