“Had poets ever caught a glimpse of the beloved's lips and eyes, one would turn sweet-spoken, the other write enchanted lines.”
اگر شعرا کہیں محبوب کے لب اور آنکھیں دیکھ پاتے، تو کوئی شیریں گفتار بن جاتا اور کوئی جادوئی انداز میں لکھنے والا ہو جاتا۔
شاعر اپنے محبوب کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر دنیا کے دیگر شعرا کبھی محبوب کے لب و چشم کی دلکشی دیکھ لیتے، تو ان کی شاعری کا رنگ ہی بدل جاتا۔ نازک لبوں کی شیرینی دیکھ کر کوئی میٹھے کلام کا استاد بن جاتا، اور سحر انگیز آنکھوں کے کرشمے سے کوئی جادو نگار قلم کار بن بیٹھتا۔ شاعر کا خیال یہ ہے کہ اصل فن اور شاعری کا کمال درحقیقت محبوب کے ایک جلوے کا مرہونِ منت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
