“Thank heavens no chinks remained within the walls, else what a plight: / To you it would be playful jest, but for the poor, a cruel spite.”
شکر ہے کہ دیواروں میں کوئی سوراخ باقی نہ رہا، ورنہ آپ کے لیے تو یہ محض دل لگی ہوتی مگر غریبوں پر سراسر ظلم ہوتا۔
شاعر یہاں غریبوں کی عزتِ نفس اور بے بسی کا احاطہ کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اُن کی دیواروں میں کوئی شگاف یا سوراخ باقی نہیں بچا۔ تماشائیوں اور صاحبِ حیثیت لوگوں کے لیے تو کسی کے کچے گھر میں جھانکنا محض کھیل اور دل لگی کا سامان ہوتا، لیکن ان ناداروں کے لیے یہ اپنی چادر اور چار دیواری پر کھلا ستم بن جاتا۔ یہ شعر کمال درد کے ساتھ یہ سچائی واضح کرتا ہے کہ جو تماشا ایک کے لیے ہنسی مذاق ہے، وہی دوسرے کی روح کا زخم ہو سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
