“Day and night, it is the sting of their faithlessness I bear; had they been within my sway, what sorrow would be there?”
مجھے دن رات ان ہی کی بے وفائی کا صدمہ رہتا ہے؛ اگر وہ میرے قابو میں ہوتے تو مجھے کوئی غم کیوں ہوتا؟
اس شعر میں شاعر محبوب کی بے وفائی کے اس مستقل صدمے کا ذکر کر رہا ہے جو دن رات دل کو کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ سارا المیہ ہی اس بے بسی کا ہے کہ انسان جس سے ٹوٹ کر محبت کرے، اس کی وفا یا فیصلوں پر کوئی اختیار نہیں رکھ سکتا۔ اگر محبوب ہی اپنے قابو میں ہوتا تو یہ دکھ مقدر نہ بنتا، مگر عشق کی سب سے کڑوی حقیقت یہی بے اختیاری ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
