“Had I not beheld the graves of Darius and Alexander, I too would have yearned for wealth, status, and regal splendor.”
اگر میں دارا اور سکندر جیسے عظیم بادشاہوں کی قبریں نہ دیکھتا، تو مجھے بھی دولت، مرتبے اور جاہ و حشم کی خواہش ہوتی۔
دارا اور سکندر تاریخ کے وہ عظیم الشان فاتح ہیں جن کی بادشاہت اور جاہ و جلال کی دنیا مثالیں دیتی تھی، مگر بالآخر وہ بھی خاک کا ڈھیر بن گئے۔ شاعر بڑی خوبصورتی سے کہتا ہے کہ اگر اُس نے ان طاقتور حکمرانوں کی قبریں نہ دیکھی ہوتیں، تو شاید وہ بھی دنیاوی دولت اور مرتبے کی دوڑ میں اندھا دھند شامل ہو جاتا۔ یہ شعر دراصل انسان کو زندگی کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے کہ جب ایسے نامور شہنشاہ مٹی ہو گئے تو پھر اس عارضی شان و شوکت پر غرور کیسا؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
