غزل
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
یہ غزل محبوب کے بے پایاں عشق اور تڑپ کی عکاس ہے، جہاں ہر لمحہ محبوب کو یاد کرنا ہی بیمار دل کا وظیفہ بن چکا ہے۔ شاعر کوثر و تسنیم کی آرزو سے بے نیاز ہو کر صرف اپنے محبوب کے دیدار کا پیاسا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
याद करना हर घड़ी उस यार का
है वज़ीफ़ा मुझ दिल-ए-बीमार का
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا
ہر لمحہ اپنے محبوب کو یاد کرتے رہنا میرے اس بیمار دل کا مستقل وظیفہ بن گیا ہے۔
2
आरज़ू-ए-चश्मा-ए-कौसर नईं
तिश्ना-लब हूँ शर्बत-ए-दीदार का
آرزوئے چشمۂ کوثر نئیں
تشنہ لب ہوں شربت دیدار کا
مجھے جنت کے چشمۂ کوثر کی کوئی تمنا نہیں ہے، بلکہ میں تو صرف اپنے محبوب کے دیدار کے شربت کا پیاسا ہوں۔
3
आक़िबत क्या होवेगा मालूम नईं
दिल हुआ है मुब्तिला दिलदार का
عاقبت کیا ہووے گا معلوم نئیں
دل ہوا ہے مبتلا دل دار کا
مجھے معلوم نہیں کہ آخرکار میرا انجام کیا ہوگا؛ میرا دل محبوب کی محبت میں مبتلا ہو گیا ہے۔
4
क्या कहे तारीफ़ दिल है बे-नज़ीर
हर्फ़ हर्फ़ उस मख़्ज़न-ए-असरार का
کیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر
حرف حرف اس مخزن اسرار کا
دل کی کیا تعریف کی جائے، رازوں کے اس خزانے کا ایک ایک حرف بے مثال اور لاجواب ہے۔
5
गर हुआ है तालिब-ए-आज़ादगी
बंद मत हो सुब्हा ओ ज़ुन्नार का
گر ہوا ہے طالب آزادگی
بند مت ہو سبحہ و زنار کا
اگر تم آزادی کے طلب گار ہو تو تسبیح اور زنار کی قید میں مت پڑو۔
6
मसनद-ए-गुल मंज़िल-ए-शबनम हुई
देख रुत्बा दीदा-ए-बेदार का
مسند گل منزل شبنم ہوئی
دیکھ رتبہ دیدۂ بیدار کا
پھول کی مسند شبنم کی منزل بن گئی، ذرا جاگنے والی آنکھ کا بلند مرتبہ تو دیکھو۔
7
ऐ 'वली' होना सिरीजन पर निसार
मुद्दआ है चश्म-ए-गौहर-बार का
اے ولیؔ ہونا سریجن پر نثار
مدعا ہے چشم گوہر بار کا
اے ولی! اپنے محبوب پر قربان ہو جانا ہی ان موتی برسانے والی (آنسو بہانے والی) آنکھوں کا اصل مقصد ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
