آرزوئے چشمۂ کوثر نئیں — ولی دکنی
“I hold no longing for Kausar's sacred spring; my lips thirst only for the sweet nectar of your sight.”
معنی
مجھے جنت کے چشمۂ کوثر کی کوئی تمنا نہیں ہے، بلکہ میں تو صرف اپنے محبوب کے دیدار کے شربت کا پیاسا ہوں۔
تشریح
اس شعر میں شاعر جنت کی سب سے عظیم اور پاکیزہ نعمت، یعنی چشمۂ کوثر کے آبِ حیات سے بھی بے نیازی ظاہر کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے پیاسے ہونٹوں کو آخرت کے کسی انعام کی طلب نہیں، بلکہ اس کی روح تو بس محبوب کے ایک دیدار کے شربت کی تمنائی ہے۔ یہ عشق کا وہ والہانہ مقام ہے جہاں محبوب کی ایک جھلک جنت کی تمام آسائشوں پر بھاری نظر آتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
