غزل
ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
اس غزل میں عاشق اپنے والہانہ عشق اور مکمل سپردگی کا اظہار کرتے ہوئے صحرا اور اپنی طلب کی قسم کھاتا ہے۔ خود کو مجنوں قرار دیتے ہوئے شاعر اپنے پری چہرہ محبوب کے بے مثال حسن، ناز اور سراپا کی دلفریب مدح سرائی کرتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
तिरा मजनूँ हूँ सहरा की क़सम है
तलब में हूँ तमन्ना की क़सम है
ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
طلب میں ہوں تمنا کی قسم ہے
میں تیرا مجنوں ہوں، مجھے صحرا کی قسم ہے؛ میں تیری طلب و تلاش میں ہوں، مجھے تمنا کی قسم ہے۔
2
सरापा नाज़ है तू ऐ परी-रू
मुझे तेरे सरापा की क़सम है
سراپا ناز ہے تو اے پری رو
مجھے تیرے سراپا کی قسم ہے
اے پری چہرہ محبوب! تو سر سے لے کر پاؤں تک سراپا ناز اور نخرہ ہے، مجھے تیرے پورے وجود کی قسم ہے۔
3
दिया हक़ हुस्न-ए-बाला-दस्त तुजकूं
मुझे तुझ सर्व-ए-बाला की क़सम है
دیا حق حسن بالا دست تجکوں
مجھے تجھ سرو بالا کی قسم ہے
خدا نے تجھے سب سے برتر اور اعلیٰ حسن عطا کیا ہے؛ مجھے تیرے بلند، سرو جیسے قد کی قسم ہے۔
4
किया तुझ ज़ुल्फ़ ने जग कूँ दिवाना
तिरी ज़ुल्फ़ाँ के सौदा की क़सम है
کیا تجھ زلف نے جگ کوں دوانا
تری زلفاں کے سودا کی قسم ہے
تمہاری زلفوں نے پوری دنیا کو دیوانہ بنا دیا ہے، اور مجھے تمہاری زلفوں کی اس دیوانگی کی قسم ہے۔
5
दो-रंगी तर्क कर हर इक से मत मिल
तुझे तुझ क़द्द-ए-राना की क़सम है
دو رنگی ترک کر ہر اک سے مت مل
تجھے تجھ قد رعنا کی قسم ہے
دوغلا پن چھوڑ دو اور ہر ایک سے مت ملا کرو، تمہیں تمہارے خوبصورت اور دلکش قد کی قسم ہے۔
6
किया तुझ इश्क़ ने आलम कूँ मजनूँ
मुझे तुझ रश्क-ए-लैला की क़सम है
کیا تجھ عشق نے عالم کوں مجنوں
مجھے تجھ رشک لیلیٰ کی قسم ہے
تمہارے عشق نے ساری دنیا کو مجنوں کی طرح دیوانہ بنا دیا ہے؛ مجھے تمہاری قسم ہے جس کے حسن پر خود لیلیٰ بھی رشک کرتی ہے۔
7
'वली' मुश्ताक़ है तेरी निगह का
मुझे तुझ चश्म-ए-शहला की क़सम है
ولیؔ مشتاق ہے تیری نگہ کا
مجھے تجھ چشم شہلا کی قسم ہے
ولی تمہاری ایک نظر کا طلب گار ہے، اور مجھے تمہاری خوبصورت اور نشیلی آنکھوں کی قسم ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
