ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے — ولی دکنی

ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے طلب میں ہوں تمنا کی قسم ہے

“I am your Majnun, I swear by the desert sands; consumed by seeking you, I swear by desire's demands.”

— ولی دکنی

معنی

میں تیرا مجنوں ہوں، مجھے صحرا کی قسم ہے؛ میں تیری طلب و تلاش میں ہوں، مجھے تمنا کی قسم ہے۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے جذبے کی سچائی پر مہر لگانے کے لیے خود کو 'مجنوں' کہتا ہے اور اس ویران صحرا کی قسم کھاتا ہے جو عشق کی تنہائیوں اور آبلہ پائی کا امین ہے۔ وہ اپنی طلب اور دل کی تمنا کی قسم کھا کر بتاتا ہے کہ محبوب کو پانے کی یہ پیاس کوئی وقتی جذبہ نہیں، بلکہ اس کا کل اثاثہ ہے۔ یہاں محبت محض ایک کیفیت نہیں رہتی، بلکہ ایک مقدس جنون بن کر رگ و پے میں اتر جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.