غزل

فدائے دلبر رنگیں ادا ہوں

فدائے دلبر رنگیں ادا ہوں
ولی دکنی· Ghazal· 7 shers· radif: हूँ

اس غزل میں شاعر اپنے پرکشش اور رنگین ادا محبوب پر فریفتگی اور فداکاری کا اظہار کرتا ہے۔ وہ واضح کرتا ہے کہ اسے ہر خوب رو سے ملنے کا شوق نہیں، بلکہ اس کا حقیقی قلبی رشتہ صرف انہی سے ہے جو سخن اور شعری لطافتوں کے شناسا ہیں۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
फ़िदा-ए-दिलबर-ए-रंगीं-अदा हूँ शहीद-ए-शाहिद-ए-गुल-गूँ-क़बा हूँ
فدائے دلبر رنگیں ادا ہوں شہید شاہد گل گوں قبا ہوں
میں دلکش انداز رکھنے والے محبوب پر فدا ہوں اور گلابی قبا پہنے ہوئے اس خوبصورت محبوب پر قربان ہوں۔
2
हर इक मह-रू के मिलने का नहीं ज़ौक़ सुख़न के आश्ना का आश्ना हूँ
ہر اک مہ رو کے ملنے کا نہیں ذوق سخن کے آشنا کا آشنا ہوں
مجھے ہر خوبصورت چہرے والے سے ملنے کا کوئی شوق نہیں ہے، میں تو صرف شاعری کو سمجھنے والے کا دوست ہوں۔
3
किया हूँ तर्क नर्गिस का तमाशा तलबगार-ए-निगाह-ए-बा-हया हूँ
کیا ہوں ترک نرگس کا تماشا طلب گار نگاہ با‌ حیا ہوں
میں نے نرگس کا تماشا دیکھنا ترک کر دیا ہے، کیونکہ اب میں شرم و حیا سے بھری نگاہ کا طلبگار ہوں۔
4
न कर शमशाद की तारीफ़ मुझ पास कि मैं उस सर्व-क़द का मुब्तला हूँ
نہ کر شمشاد کی تعریف مجھ پاس کہ میں اس سرو قد کا مبتلا ہوں
میرے سامنے شمشاد کے درخت کی تعریف مت کرو، کیونکہ میں اس سرو جیسے قد والے محبوب کا مبتلا اور دیوانہ ہوں۔
5
किया मैं अर्ज़ उस ख़ुर्शीद-रू सूँ तू शाह-ए-हुस्न मैं तेरा गदा हूँ
کیا میں عرض اس خورشید رو سوں تو شاہ حسن میں تیرا گدا ہوں
میں نے اس سورج جیسے چہرے والے محبوب سے التجا کی کہ تو حسن کا بادشاہ ہے اور میں تیرا فقیر ہوں۔
6
सदा रखता हूँ शौक़ उस के सुख़न का हमेशा तिश्ना-ए-आब-ए-बक़ा हूँ
سدا رکھتا ہوں شوق اس کے سخن کا ہمیشہ تشنۂ آب بقا ہوں
مجھے ہمیشہ اپنے محبوب کی باتیں سننے کی چاہ رہتی ہے، اور میں سدا آبِ حیات کا پیاسا رہتا ہوں۔
7
क़दम पर उस के रखता हूँ सदा सर 'वली' हम-मशरब-ए-रंग-ए-हिना हूँ
قدم پر اس کے رکھتا ہوں سدا سر ولیؔ ہم مشرب رنگ حنا ہوں
میں ہمیشہ اپنے محبوب کے قدموں پر اپنا سر رکھتا ہوں؛ اے ولیؔ، میرا طور طریقہ مہندی کے رنگ جیسا ہے جو ہمیشہ پاؤں سے لگا رہتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.