“I forever cherish a longing for their speech; ever thirsty am I for the elixir of eternal life.”
مجھے ہمیشہ اپنے محبوب کی باتیں سننے کی چاہ رہتی ہے، اور میں سدا آبِ حیات کا پیاسا رہتا ہوں۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی شیریں گفتگو کو ’آبِ بقا‘ یعنی آبِ حیات کے برابر قرار دیا ہے۔ جس طرح کوئی پیاسا شخص ہمیشہ امر کر دینے والے چشمے کی طلب میں رہتا ہے، اسی طرح عاشق کا دل بھی ہر لمحہ محبوب کے لبوں سے نکلے ہوئے الفاظ سننے کے لیے تڑپتا ہے۔ یہ کیفیت اس والہانہ پن کو بیان کرتی ہے جہاں محبوب کی ایک بات بھی دل کو نئی زندگی اور روح کو لازوال سکون بخش دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
