“To that sun-faced beauty, I made my humble plea: You are the monarch of beauty, and a beggar unto you am I.”
میں نے اس سورج جیسے چہرے والے محبوب سے التجا کی کہ تو حسن کا بادشاہ ہے اور میں تیرا فقیر ہوں۔
اس شعر میں عاشق اپنے خورشید جیسے روشن اور پُرنور محبوب کے روبرو کمالِ عاجزی سے اپنا حالِ دل بیان کر رہا ہے۔ وہ محبوب کو حسن کی سلطنت کا مطلق العنان بادشاہ مانتا ہے اور خود کو اس کے در کا ادنیٰ فقیر قرار دیتا ہے، جو محض ایک نگاہِ کرم کا طلبگار ہے۔ کلاسیکی شاعری کا یہ خوبصورت انداز عشق کی مکمل سپردگی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں محبوب کے در کی گدائی بھی عاشق کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
