“Forever at her feet I rest my head; / O Wali, I share the creed of henna's hue.”
میں ہمیشہ اپنے محبوب کے قدموں پر اپنا سر رکھتا ہوں؛ اے ولیؔ، میرا طور طریقہ مہندی کے رنگ جیسا ہے جو ہمیشہ پاؤں سے لگا رہتا ہے۔
ولی دکنی نے اس شعر میں عشق اور سپردگی کی ایک لاجواب اور دلکش تمثیل پیش کی ہے۔ جس طرح مہندی محبوب کے پاؤں سے لگ کر اپنا سارا رنگ اور وجود نچھاور کر دیتی ہے، بالکل اسی طرح شاعر بھی ہمیشہ اپنا سر اپنے محبوب کے قدموں میں جھکائے رکھتا ہے۔ خود کو رنگِ حنا کا 'ہم مشرب' کہہ کر ولی یہ بتاتے ہیں کہ محبوب کے آستانے پر سر جھکائے رکھنا ہی دراصل ان کا مسلک اور ان کی محبت کی معراج ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
