غزل
دل ہوا ہے مرا خراب سخن
دل ہوا ہے مرا خراب سخن
اس غزل میں شاعر نے سخن اور شاعری کے حسنِ بے حجاب اور سحر انگیزی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وہ معنی کی گہرائی کو ایک نشاط انگیز شراب کی مانند قرار دیتے ہیں، جس کے سرور میں ان کا دل شعر و ادب کی خوبصورتی پر فدا ہو چکا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
दिल हुआ है मिरा ख़राब-ए-सुख़न
देख कर हुस्न-ए-बे-हिजाब-ए-सुख़न
دل ہوا ہے مرا خراب سخن
دیکھ کر حسن بے حجاب سخن
شاعری کا بے پردہ حسن دیکھ کر میرا دل کلام اور سخن کے شوق میں برباد اور فریفتہ ہو گیا ہے۔
2
बज़्म-ए-मा'नी में सरख़ुशी है उसे
जिस कूँ है नश्शा-ए-शराब-ए-सुख़न
بزم معنی میں سر خوشی ہے اسے
جس کوں ہے نشۂ شراب سخن
معانی کی محفل میں وہی شخص سرور اور خوشی پاتا ہے جسے شاعری کی شراب کا نشہ ہو۔
3
राह-ए-मज़मून-ए-ताज़ा बंद नहीं
ता-क़यामत खुला है बाब-ए-सुख़न
راہ مضمون تازہ بند نہیں
تا قیامت کھلا ہے باب سخن
نئے خیالات اور اچھوتے مضامین کی راہ کبھی بند نہیں ہوتی، اور شاعری کا دروازہ قیامت کے دن تک کھلا ہوا ہے۔
4
जल्वा-पैरा हो शाहिद-ए-मा'नी
जब ज़बाँ सूँ उठे नक़ाब-ए-सुख़न
جلوہ پیرا ہو شاہد معنی
جب زباں سوں اٹھے نقاب سخن
معنی کا محبوب تب اپنا جلوہ دکھائے جب زبان سے کلام کا پردہ ہٹ جائے۔
5
गौहर उस की नज़र में जा न करे
जिन ने देखा है आब-ओ-ताब-ए-सुख़न
گوہر اس کی نظر میں جا نہ کرے
جن نے دیکھا ہے آب و تاب سخن
جس شخص نے شاعری کی آب و تاب اور رونق دیکھ لی ہو، اس کی نگاہ میں قیمتی موتی بھی کوئی وقعت نہیں رکھتا۔
6
हर्जा़-गोयाँ की बात क्यूँकि सुने
जो सुना नग़्मा-ए-रबाब-ए-सुख़न
ہرجا گویاں کی بات کیونکہ سنے
جو سنا نغمۂ رباب سخن
جس نے شاعری کے رباب کا نغمہ سن لیا ہو، وہ بھلا فضول باتیں کرنے والوں کی گفتگو کیوں سنے گا۔
7
है तिरी बात ऐ नज़ाकत-ए-फ़हम
लौह-ए-दीबाचा-ए-किताब-ए-सुख़न
ہے تری بات اے نزاکت فہم
لوح دیباچۂ کتاب سخن
اے نزاکت کی سمجھ رکھنے والے، تیری بات شاعری اور سخن کی کتاب کے دیباچے کی تختی جیسی ہے۔
8
है सुख़न जग मनीं अदीम-उल-मिसाल
जुज़ सुख़न नीं दुजा जवाब-ए-सुख़न
ہے سخن جگ منیں عدیم المثال
جز سخن نیں دجا جواب سخن
اس دنیا میں سخن (کلام یا شاعری) بے مثال ہے، اور خود سخن کے سوا سخن کا کوئی دوسرا جواب یا مثل نہیں ہے۔
9
ऐ 'वली' दर्द-ए-सर कभू न रहे
जब मिले सन्दल-ओ-गुलाब-ए-सुख़न
اے ولیؔ درد سر کبھو نہ رہے
جب ملے صندل و گلاب سخن
اے ولی، سر کا درد کبھی باقی نہیں رہے گا جب شاعری کا صندل اور گلاب میسر آ جائے گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
