“Why would anyone heed the babble of idle talkers, having once heard the melody played upon poetry's lute?”
جس نے شاعری کے رباب کا نغمہ سن لیا ہو، وہ بھلا فضول باتیں کرنے والوں کی گفتگو کیوں سنے گا۔
شاعر فرماتے ہیں کہ جس نے کلامِ موزوں اور سچی شاعری کی دلکش راگنی سن لی ہو، وہ بھلا لایعنی اور فضول باتیں کرنے والوں کی بکواس پر کیوں کان دھرے گا۔ یہاں عمدہ شاعری کو 'رباب' یعنی ایک پُراثر ساز سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کا نغمہ روح کو سرشار کر دیتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب انسان کو بامعنی اور نفیس کلام کا ذوق نصیب ہو جائے، تو اس کے بعد سطحی گفتگو سننا محال ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
