اے ولیؔ درد سر کبھو نہ رہے جب ملے صندل و گلاب سخن

“O Vali, never shall any headache remain, / Once soothed by the rosewater and sandalwood of verse.”

— ولی دکنی
معنی

اے ولی، سر کا درد کبھی باقی نہیں رہے گا جب شاعری کا صندل اور گلاب میسر آ جائے گا۔

تشریح

پرانے زمانے میں سردرد اور تپش کو مٹانے کے لیے ماتھے پر صندل اور عرقِ گلاب کا ٹھنڈا لیپ لگایا جاتا تھا۔ ولیؔ نے اسی روایتی علاج کو شاعری سے جوڑ کر ایک دلکش استعارہ بنایا ہے کہ عمدہ سخن روح کے دکھوں کا اصلی علاج ہے۔ جب دل کو اچھے اشعار کی خوشبو اور خنکی میسر آ جائے تو دنیا کی ساری الجھنیں اور ذہنی تھکن پل بھر میں دور ہو جاتی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.