راہ مضمون تازہ بند نہیں تا قیامت کھلا ہے باب سخن

“The path to fresh themes is never closed; open until Judgment Day is the portal of verse.”

— ولی دکنی
معنی

نئے خیالات اور اچھوتے مضامین کی راہ کبھی بند نہیں ہوتی، اور شاعری کا دروازہ قیامت کے دن تک کھلا ہوا ہے۔

تشریح

یہ شعر دراصل فن اور انسانی تخیل کی لامتناہی وسعتوں کا ایک خوبصورت جشن ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ شاعری کا دروازہ (بابِ سخن) قیامت تک کھلا رہے گا اور نئے خیالات و مضامین کے راستے کبھی مسدود نہیں ہو سکتے۔ دنیا میں چاہے کتنا ہی کچھ کہا جا چکا ہو، سچے احساس اور ایک نئے زاویۂ نظر کے لیے ہمیشہ گنجائش باقی رہتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.