“A pearl can never captivate the eyes of one who has beheld the radiant luster of verse.”
جس شخص نے شاعری کی آب و تاب اور رونق دیکھ لی ہو، اس کی نگاہ میں قیمتی موتی بھی کوئی وقعت نہیں رکھتا۔
اس شعر میں شاعر نے سخن یعنی شاعری کے حسن کو سچے موتی پر فوقیت دی ہے۔ لفظ ’آب و تاب‘ کا خوبصورت استعمال موتی کی چمک اور کلام کے جاہ و جلال دونوں کو سمیٹتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ جس نے ایک بار عمدہ شاعری کی سحر انگیزی اور معنوی گہرائی کا لطف اٹھا لیا، اس کی نظر میں دنیا کا کوئی بھی قیمتی ہیرا یا گوہر اپنی وقعت کھو بیٹھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
