غزل
اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے
اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے
اس غزل میں محبوب کے دلکش حسن اور اس کی پرکشش جلوہ نمائی کا شاعرانہ بیان ملتا ہے۔ شاعر کے مطابق جب محبوب گلشن کا رخ کرتا ہے تو پھول اور بہار اس کے استقبال کے لیے بے تاب ہو اٹھتے ہیں اور ہر دل شادمانی سے کھل اٹھتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
अगर गुलशन तरफ़ वो नौ-ख़त-ए-रंगीं-अदा निकले
गुल ओ रैहाँ सूँ रंग-ओ-बू शिताबी पेशवा निकले
اگر گلشن طرف وو نو خط رنگیں ادا نکلے
گل و ریحاں سوں رنگ و بو شتابی پیشوا نکلے
اگر وہ خوبصورت اور نازک محبوب باغ کی طرف نکلے، تو گلاب اور ریحان سے رنگ اور خوشبو فوراً اس کے استقبال کے لیے آگے بڑھ آئیں۔
2
खिले हर ग़ुंचा-ए-दिल ज्यूँ गुल-ए-शादाब शादी सूँ
अगर टुक घर सूँ बाहर वो बहार-दिल-कुशा निकले
کھلے ہر غنچۂ دل جیوں گل شاداب شادی سوں
اگر ٹک گھر سوں باہر وو بہار دل کشا نکلے
اگر وہ دل کو خوش کرنے والی بہار (محبوب) ذرا بھر کے لیے بھی گھر سے باہر نکل آئے، تو دل کی ہر کلی خوشی سے تروتازہ پھول کی طرح کھل اٹھے۔
3
ग़नीम-ए-ग़म किया है फ़ौज-बंदी इश्क़-बाज़ां पर
बजा है आज वो राजा अगर नौबत बजा निकले
غنیم غم کیا ہے فوج بندی عشق بازاں پر
بجا ہے آج وو راجہ اگر نوبت بجا نکلے
غم کے دشمن نے عاشقوں کے خلاف لشکر کشی کر لی ہے۔ اب یہ بالکل بجا اور مناسب ہے کہ وہ بادشاہ بھی آج نوبت بجاتے ہوئے میدان میں نکل آئے۔
4
निसार उस के क़दम ऊपर करूँ अंझुवाँ के गौहर सब
अगर करने कूँ दिल-जूई वो सर्व-ए-ख़ुश-अदा निकले
نثار اس کے قدم اوپر کروں انجھواں کے گوہر سب
اگر کرنے کوں دل جوئی وو سرو خوش ادا نکلے
اگر وہ دلکش چال والا محبوب میرے دل کی تسلی کے لیے باہر نکلے، تو میں اپنے آنسوؤں کے تمام موتی اس کے قدموں پر نچھاور کر دوں۔
5
सनम आए करूँगा नाला-ए-जाँ-सोज़ कूँ ज़ाहिर
मगर उस संग-दिल सूँ मेहरबानी की सदा निकले
صنم آئے کروں گا نالۂ جاں سوز کوں ظاہر
مگر اس سنگ دل سوں مہربانی کی صدا نکلے
جب میرا محبوب آئے گا تو میں اس کے سامنے اپنی جاں سوز فریاد ظاہر کروں گا، شاید اس سنگ دل سے مہربانی کی کوئی صدا نکل آئے۔
6
रहे मानिंद-ए-लाल-ए-बे-बहा शाहाँ के ताज ऊपर
मोहब्बत में जो कुइ अस्बाब ज़ाहिर कूँ बहा निकले
رہے مانند لعل بے بہا شاہاں کے تاج اوپر
محبت میں جو کوئی اسباب ظاہر کوں بہا نکلے
جو شخص بھی محبت میں اپنے تمام ظاہری ساز و سامان اور مال و دولت کو بہا دیتا ہے، وہ بادشاہوں کے تاج پر جڑے بے بہا لعل کی مانند بلند رہتا ہے۔
7
बख़ीली दर्स की हरगिज़ न कीजो ऐ परी-पैकर
'वली' तेरी गली में जब कि मानिंद-ए-गदा निकले
بخیلی درس کی ہرگز نہ کیجو اے پری پیکر
ولیؔ تیری گلی میں جب کہ مانند گدا نکلے
اے پری چہرہ محبوب، جب بھی ولی تیری گلی میں کسی فقیر کی مانند آئے تو اپنے دیدار میں ہرگز کنجوسی مت کرنا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
