“When my beloved comes, I shall reveal my soul-searing lament, if only from that stone-hearted one a voice of mercy would arise.”
جب میرا محبوب آئے گا تو میں اس کے سامنے اپنی جاں سوز فریاد ظاہر کروں گا، شاید اس سنگ دل سے مہربانی کی کوئی صدا نکل آئے۔
اس شعر میں شاعر نے معشوق کو 'صنم' یعنی پتھر کی مورت اور 'سنگ دل' کہہ کر ایک دلفریب رعایتِ لفظی برتی ہے۔ عاشق کا ارادہ ہے کہ محبوب کے روبرو ہوتے ہی وہ اپنے سینے کی جلن اور روح کو تڑپا دینے والی فریاد کھول کر رکھ دے گا۔ دل میں یہ مدہم سی امید اور حسرت چھپی ہے کہ شاید اس بے پناہ درد کو دیکھ کر اس پتھر جیسے دل سے بھی بالآخر رحم اور محبت کی کوئی صدا پھوٹ پڑے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
