“At their feet I would scatter all the pearls of my tears, if that graceful cypress should step forth to console my heart.”
اگر وہ دلکش چال والا محبوب میرے دل کی تسلی کے لیے باہر نکلے، تو میں اپنے آنسوؤں کے تمام موتی اس کے قدموں پر نچھاور کر دوں۔
اس شعر میں شاعر نے فراق کے آنسوؤں کو درد کا رونا بنانے کے بجائے انمول موتیوں کی صورت پیش کیا ہے۔ عاشق کی آرزو ہے کہ اگر وہ سرو جیسا دلکش اور خوش ادا محبوب کبھی اس اداس دل کی دل جوئی کے لیے قدم آگے بڑھائے، تو وہ اپنے تمام اشک نذرانے کے طور پر اس کے قدموں میں نچھاور کر دے۔ یہ شعر محبوب کی دلکشی اور عاشق کے جذبۂ ایثار کی بڑی خوبصورت اور جذباتی تصویر کشی کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
