“Never be miserly with the alms of your sight, O fairy-faced beauty, whenever Wali wanders into your lane in the guise of a beggar.”
اے پری چہرہ محبوب، جب بھی ولی تیری گلی میں کسی فقیر کی مانند آئے تو اپنے دیدار میں ہرگز کنجوسی مت کرنا۔
اس شعر میں ولیؔ دکنی نے عشق کی عاجزی اور بے خودی کو نہایت دلکش انداز میں سمیٹا ہے۔ عاشق اپنی پری پیکر محبوبہ کی گلی میں دنیاوی دولت کی تمنا لے کر نہیں، بلکہ فقط اس کے دیدار کا بھکاری بن کر پہنچا ہے۔ وہ بڑی حسرت سے التجا کرتا ہے کہ جب وہ سوالی بن کر اس کی دہلیز پر آئے، تو وہ اپنے جلوے کی خیرات بانٹنے میں کنجوسی نہ کرے، کیونکہ ایک جھلک ہی اس کے پیاسے دل کا کل اثاثہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
