“Against the lovers, sorrow's foe has marched its grand array; / 'Tis fitting if the sovereign king now sounds the drums of war.”
غم کے دشمن نے عاشقوں کے خلاف لشکر کشی کر لی ہے۔ اب یہ بالکل بجا اور مناسب ہے کہ وہ بادشاہ بھی آج نوبت بجاتے ہوئے میدان میں نکل آئے۔
اس شعر میں شاعر نے محبت کو ایک رزم گاہ کے روپ میں دکھایا ہے، جہاں غم کے لشکر نے بے بس عشاق کی باقاعدہ فوج بندی کر کے گھیراؤ کر لیا ہے۔ ایسے پرآشوب وقت میں اگر دلوں کا بادشاہ یعنی محبوب اپنی شاہی نوبت بجواتے ہوئے عاشقوں کی نصرت کے لیے آن پہنچے، تو یہ بالکل بجا اور عین مناسب ہے۔ لفظ 'بجا' (درست) اور نوبت 'بجانے' کی دلکش رعایت نے اس شاہانہ منظر کو اور بھی پرتاثیر بنا دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
