“Should toward the garden that graceful, fair youth make his way, scent and color from rose and basil would rush forth to welcome him without delay.”
اگر وہ خوبصورت اور نازک محبوب باغ کی طرف نکلے، تو گلاب اور ریحان سے رنگ اور خوشبو فوراً اس کے استقبال کے لیے آگے بڑھ آئیں۔
اس شعر میں محبوب کے حسن اور دلکش شباب کی ایک جادوئی تصویر کشی کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر وہ نوخیز اور پرکشش محبوب گلشن کی جانب رخ کرے، تو خود فطرت اس کے استقبال کے لیے بے تاب ہو جائے گی۔ گلاب کا رنگ اور ریحان کی خوشبو اپنے وجود سے لپٹ کر رہنے کے بجائے فورا باہر نکل آئیں گے، گویا وہ شاہی مہمان کا والہانہ خیر مقدم کرنے کے لیے پیش پیش ہوں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
