غزل

اس سے تو اور آگ وہ بیدرد ہو گیا

اس سے تو اور آگ وہ بیدرد ہو گیا
شیخ ابراہیم ذوق· Ghazal· 7 shers

Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
उस से तो और आग वो बेदर्द हो गया अब आह-ए-आतिशीन से भी दिल सर्द हो गया
اس سے تو اور آگ وہ بیدرد ہو گیا اب آہ آتشین سے بھی دل سرد ہو گیا
اُس آگ سے وہ بے درد اور بھی سنگ دل ہو گیا؛ اب تو میری جلتی ہوئی آہوں سے بھی اُس کا دل اور سرد پڑ گیا۔
2
सीने में बुलहवस के भी था आबला मगर नश्तर का नाम सुनते ही मुँह ज़र्द हो गया
سینے میں بوالہوس کے بھی تھا آبلہ مگر نشتر کا نام سنتے ہی منھ زرد ہو گیا
بوالہوس کے سینے میں بھی آبلہ تھا، مگر نشتر کا نام سنتے ہی اُس کا منھ زرد ہو گیا۔
3
सौ बार मर के आशिक़-ए-जाँ-बाख़्ता तेरा मरने को फिर खड़ा रू-ए-शश-नर्द हो गया
سو بار مر کے عاشق جان باختہ ترا مرنے کو پھر کھڑا رو شش نرد ہو گیا
سو بار مر کر بھی تیرا جان گنوا دینے والا عاشق، پھر سے مرنے کے لیے چھ پانسوں والی بساط کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
4
मजनून भी दश्त-गर्द था मानिंद-ए-गिर्द-बाद जब ख़ाक उड़ाई हमने तो वो गर्द हो गया
مجنون بھی دشت گرد تھا مانند گرد باد جب خاک اُڑائی ہمنے تو وہ گرد ہو گیا
مجنون بھی بگولے کی مانند جنگل میں بھٹکنے والا تھا؛ مگر جب میں نے خاک اُڑائی تو وہ بھی خاک میں مل کر کھو گیا۔
5
इस सैद-ए-तीर-ख़ुर्दा को तू ने किया न ज़ब्ह आख़िर तड़प तड़प के यहीं सर्द हो गया
اس صید تیر خوردہ کو تو نے کیا نہ ذبح آخر تڑپ تڑپ کے یہیں سرد ہو گیا
تیر سے زخمی اس شکار کو تو نے ذبح نہ کیا، آخرکار یہ تڑپ تڑپ کر یہیں سرد (بے جان) ہو گیا۔
6
वाँ रुख़ शगुफ़्तगी से गुल-ए-वर्द बन गया याँ ग़म से रू-ए-ज़र्द गुल-ए-ज़र्द हो गया
واں رخ شگفتگی سے گل ورد بن گیا یاں غم سے روے زرد گل زرد ہو گیا
واں اُس کا چہرہ خوشی اور شگفتگی سے کھِل کر سُرخ گلاب بن گیا؛ یاں میرا زرد چہرہ غم سے زرد گلاب ہو گیا۔
7
पीर-ए-मुग़ाँ के पास वो दारू है जिस से ज़ौक़ नामर्द मर्द मर्द-ए-जवाँ शेर ओ हो गया
پیر مغان کے پاس وہ دار و ہے جس سے ذوقؔ نامرد مرد مرد جوان شیر و ہو گیا
اے ذوقؔ، پیرِ مغاں کے پاس ایسی شراب ہے جس سے نامرد مرد بن جاتا ہے اور مرد جوان شیر ہو جاتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.