سو بار مر کے عاشق جان باختہ ترا — شیخ ابراہیم ذوق

سو بار مر کے عاشق جان باختہ ترا مرنے کو پھر کھڑا رو شش نرد ہو گیا

“A hundred times he died, your lover who gambled away his life; Yet to die once more he stood again, facing the six-sided dice.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

سو بار مر کر بھی تیرا جان گنوا دینے والا عاشق، پھر سے مرنے کے لیے چھ پانسوں والی بساط کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

تشریح

اس شعر میں عشق کو جوئے کی ایک کھیل کی مانند دکھایا گیا ہے، جہاں عاشق اپنی جان کو داؤ پر لگا دیتا ہے — 'جاں باختہ' یعنی جس نے اپنی جان ہار دی۔ پھر بھی وہ سو بار مر کر دوبارہ اُن چھ پاسوں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے، ایک اور بازی لگانے، ایک اور بار مرنے کے لیے۔ شاعر یہاں عشق کی اُس دیوانگی کو بیان کر رہا ہے جو شکست کے بعد بھی تھکتی نہیں، بلکہ بار بار خود کو قربان کرنے کو تیار رہتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.