واں رخ شگفتگی سے گل ورد بن گیا — شیخ ابراہیم ذوق
“There, that face with blossoming grew into a crimson rose; Here, my sallow face with grief became a yellow rose.”
معنی
واں اُس کا چہرہ خوشی اور شگفتگی سے کھِل کر سُرخ گلاب بن گیا؛ یاں میرا زرد چہرہ غم سے زرد گلاب ہو گیا۔
تشریح
دیکھیے کیسی نازک تشبیہ باندھی گئی ہے — وہاں محبوب کا چہرہ شادابی اور شگفتگی سے کھل کر سرخ گلاب بن گیا، اور یہاں عاشق کا زرد پڑا چہرہ غم کے مارے زرد گلاب ہو گیا۔ ایک ہی پھول کے دو رنگ، دو زندگیوں کی دو کیفیتیں — ایک میں وصل کی مسرت، دوسرے میں ہجر کا دکھ۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم دونوں پھول تو بنے، مگر ایک کھلنے سے اور دوسرا مرجھانے سے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
