غزل
میں پیر عشق ہوں مجنون مرید ہے میرا
میں پیر عشق ہوں مجنون مرید ہے میرا
اس غزل میں شاعر نے خود کو عشق کا پیر اور مجنوں کو اپنا مرید قرار دے کر محبت کی دنیا میں اپنے اعلیٰ و ارفع مقام کا فخریہ اظہار کیا ہے۔ یہ کلام جذبۂ عشق کی انتہا، والہانہ پن اور محبوب کے لیے گہرے و پُرخلوص سرور کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔
Source: Divan-e-Turab · HI
نغمہ سنیں
1
मैं पीर-ए-इश्क़ हूँ मजनूँ मुरीद है मेरा
वो आशिक़ी में ख़लीफ़ा रशीद है मेरा
میں پیر عشق ہوں مجنون مرید ہے میرا
وہ عاشقی میں خلیفہ رشید ہے میرا
میں عشق کا پیر و مرشد ہوں اور مجنوں میرا مرید ہے، اور عاشقی کے راستے میں وہ میرا برحق اور لائق جانشین ہے۔
2
फ़रेफ़्ता हूँ मैं जिसपर वो हिन्द अभसपर
हुस्न-ए-ताले ओ बख़्त-ए-सईद है मेरा
فریفتہ ہوں میں جسپر وہ ہند ابھسپر
حسن طالع و بخت سعید ہے میرا
میں جس ہندوستانی اپسرا پر فدا ہوں، وہ میری خوش قسمتی اور مبارک مقدر ہے۔
3
तुझे हो ईद मुबारक मुझे गले से लगा
न कर हिजाब ये इनाम-ए-ईद है मेरा
تجھے ہو عید مبارک مجھے گلے سے لگا
نہ کر حجاب یہ انعام عید ہے میرا
آپ کو عید مبارک ہو، اب مجھے گلے سے لگا لیجیے؛ شرم اور جھجھک نہ کیجیے کیونکہ آپ کا گلے ملنا ہی میرا عید کا تحفہ ہے۔
4
कहा अयाज़ ने माशूक़ बन के मौला से
मियाँ तू बंदा-ए-बे-ज़र ख़रीद है मेरा
کہا ایاز نے معشوق بن کہ مولا سے
میاں تو بندہ بے زر خرید ہے میرا
ایاز نے محبوب بن کر اپنے آقا سے کہا کہ اے جناب، اب آپ میرے ایسے غلام ہیں جسے بغیر کسی قیمت کے خریدا گیا ہے۔
5
तू सूरत अपनी छुपा कर मुझे सताता है
नज़र बख़ैर तसव्वुर मुफ़ीद है मेरा
تو صورت اپنی چھپا کر مجھے ستاتا ہے
نظر بخیر تصور مفید ہے میرا
تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا کر مجھے ستاتے ہو، لیکن نظرِ بد دور، میرا تصور ہی میرے بہت کام آتا ہے۔
6
करम से तेरे तू नज़दीक हो किसी दिन आ
न पूछ घर से तेरे घर बईद है मेरा
کرم سے تیرے تو نزدیک ہو کسی دن آ
نہ پوچھ گھر سے تیرے گھر بعید ہے میرا
اپنے کرم سے تم کسی دن میرے قریب آ جاؤ اور مجھ سے ملو؛ یہ نہ پوچھو کہ تمہارے گھر سے میرا گھر کتنا دور ہے۔
7
जो दाग़-ए-हिज्र का सहकर हुआ मैं उस से विदा
कहा ये तुझपे सज़ावल शदीद है मेरा
جو داغ ہجر کا سہکر ہوا میں اس سے وداع
کہا یہ تجھپہ سزاول شدید ہے میرا
جب میں جدائی کا داغ سہہ کر اپنے محبوب سے رخصت ہوا، تو اس نے کہا کہ تجھ پر میری یہ سخت سزا پوری طرح واجب اور جائز ہے۔
8
वो कानी हुर के मेरा माजरा सुने तो कहूँ
नई कहानी है क़िस्सा जदीद है मेरा
وہ کانی حر کے مرا ماجرا سنے تو کہون
نئی کہانی ہے قصہ جدید ہے میرا
اگر وہ حور توجہ سے میرا احوال سنے تو میں بیان کروں، کیونکہ میری کہانی بالکل انوکھی اور میرا قصہ بالکل نیا ہے۔
9
तुराब किस से मुख़ातिब हो कल वो कहता था
ये तेग़-ए-इश्क़ का मारा शहीद है मेरा
تراب کس سے مخاطب ہو کل وہ کہتا تھا
یہ تیغ عشق کا مارا شہید ہے میرا
تراب، تم کس سے مخاطب ہو؟ کل ہی تو وہ کہہ رہا تھا کہ عشق کی تلوار سے مارا گیا یہ شخص میرا شہید ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
