“You seek to torment me by keeping your face hidden from view; touch wood, my imagination still serves me well and true.”
تم اپنا چہرہ مجھ سے چھپا کر مجھے ستاتے ہو، لیکن نظرِ بد دور، میرا تصور ہی میرے بہت کام آتا ہے۔
اس شعر میں محبوب کے ساتھ محبت بھری شوخی اور ناز برداری کا بڑا دلکش رنگ ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تم خود کو چھپا کر مجھے تڑپانا چاہتے ہو، مگر خدا کے فضل سے میرے تصور کی دنیا اتنی آباد اور روشن ہے کہ تمہاری دوری بے اثر ہو جاتی ہے۔ میں جب چاہوں اپنی بند آنکھوں سے تمہارا دلکش روپ اپنے دل میں اتار لیتا ہوں، اس لیے تمہارا یہ ستم مجھ پر چلتا ہی نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
