“I am the spiritual guide of love, and Majnun is disciple to me; in the realm of devout passion, my righteous successor is he.”
میں عشق کا پیر و مرشد ہوں اور مجنوں میرا مرید ہے، اور عاشقی کے راستے میں وہ میرا برحق اور لائق جانشین ہے۔
اس شعر میں شاعر نے روایتی تعلّی یعنی شاعرانہ فخر کا سہارا لیتے ہوئے عاشقی میں اپنے بلند مرتبے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس مجنوں کو دنیا دیوانگی اور عشق کی آخری حد مانتی ہے، شاعر اسے محض اپنا مرید اور شاگرد گردانتے ہیں۔ تصوف کے استعاروں کا خوبصورت استعمال کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ عشق کی اس خانقاہ کا اصل پیر و مرشد میں ہوں اور مجنوں تو بس میرا لائق جانشین ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
