“Whom do you address, Turab? Just yesterday my love was heard saying: 'This soul struck down by love's sword is a martyr of my own.'”
تراب، تم کس سے مخاطب ہو؟ کل ہی تو وہ کہہ رہا تھا کہ عشق کی تلوار سے مارا گیا یہ شخص میرا شہید ہے۔
اس خوبصورت شعر میں عاشق کو اپنے محبوب کی جانب سے اپنا لیے جانے کا سب سے بڑا اعزاز ملتا ہے۔ شاعر تراب خود سے کہتے ہیں کہ عشق میں مٹ جانا کوئی خسارہ نہیں، کیونکہ کل خود محبوب نے فخر سے اعتراف کیا تھا کہ یہ عشق کی تیغ سے گھائل عاشق میرا اپنا شہید ہے۔ یہاں محبوب کا یہ اقرار عاشق کی قربانی اور درد کو ایک مقدس اور لازوال رتبہ عطا کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
