“Turned into the beloved, thus spoke Ayaz to his lord: / 'Master, you are now a slave whom I have bought without gold.'”
ایاز نے محبوب بن کر اپنے آقا سے کہا کہ اے جناب، اب آپ میرے ایسے غلام ہیں جسے بغیر کسی قیمت کے خریدا گیا ہے۔
یہ شعر سلطان محمود غزنوی اور ایاز کی مشہور داستانِ محبت پر مبنی ہے، جہاں عشق حاکم اور محکوم کے سارے اصول الٹ کر رکھ دیتا ہے۔ بظاہر محمود بادشاہ اور مالک تھا، مگر محبت کے دربار میں ایاز کے حسن و دلربائی نے بادشاہ کو اپنا اسیر بنا لیا تھا۔ ایاز بڑے ناز اور ادا سے اپنے حاکم کو یاد دلاتا ہے کہ محبت کسی دولت کی محتاج نہیں، اب تم میرے ایسے قیدی ہو جسے میں نے بغیر کوئی قیمت چکائے فقط اپنے دل کے زور پر خرید لیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
