غزل

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں
نظم طباطبائی· Ghazal· 15 shers· radif: को ढूँडते हैं

یہ غزل دنیاوی تنہائی، فراق کے کرب اور عدم کی منزل میں سکون کی جستجو کو موضوع بناتی ہے۔ اس میں عشق کے اس والہانہ تضاد کی خوبصورت عکاسی ہے جہاں بسمل دل بار بار اسی نگاہِ ناز کے تیر اور دوستوں کی محفل کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
इस वास्ते अदम की मंज़िल को ढूँडते हैं मुद्दत से दोस्तों की महफ़िल को ढूँडते हैं
اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں مدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیں
ہم عدم یعنی موت کی منزل کو اس لیے تلاش کر رہے ہیں کیونکہ ہم ایک طویل عرصے سے اپنے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈ رہے ہیں۔
2
ये दिल के पार हो कर फिर दिल को ढूँडते हैं तीर-ए-निगाह उस के बिस्मिल को ढूँडते हैं
یہ دل کے پار ہو کر پھر دل کو ڈھونڈتے ہیں تیر نگاہ اس کے بسمل کو ڈھونڈتے ہیں
اس کی نگاہ کے تیر دل کے آر پار ہو جانے کے بعد پھر اسی دل کو تلاش کرتے ہیں، گویا وہ تیر اپنے گھائل شکار کو ڈھونڈ رہے ہیں۔
3
इक लहर में न थे हम क्यूँ ऐ हबाब देखा यूँ आँख बंद कर के साहिल को ढूँडते हैं
اک لہر میں نہ تھے ہم کیوں اے حباب دیکھا یوں آنکھ بند کر کے ساحل کو ڈھونڈتے ہیں
کیا ہم ایک ہی لہر میں نہیں تھے؟ اے بلبلے، کیا تو نے دیکھا کہ ہم اس طرح آنکھیں بند کر کے ساحل کو ڈھونڈتے ہیں۔
4
तर्ज़-ए-करम की शाहिद हैं मेवा-दार शाख़ें इस तरह सर झुका कर साइल को ढूँडते हैं
طرز کرم کی شاہد ہیں میوہ دار شاخیں اس طرح سر جھکا کر سائل کو ڈھونڈتے ہیں
پھلوں سے لدی ہوئی شاخیں عطا و سخاوت کے طور طریقے کی گواہ ہیں، جو اپنا سر اس طرح جھکاتی ہیں جیسے کسی مانگنے والے کو تلاش کر رہی ہوں۔
5
है वस्ल ओ हिज्र अपना ऐ क़ैस तुर्फ़ा-मज़मूँ महमिल में बैठे हैं और महमिल को ढूँडते हैं
ہے وصل و ہجر اپنا اے قیس طرفہ مضموں محمل میں بیٹھے ہیں اور محمل کو ڈھونڈتے ہیں
اے قیس، ہمارا ملنا اور بچھڑنا ایک عجیب معاملہ ہے کہ ہم خود محمل میں بیٹھے ہیں اور پھر بھی محمل ہی کو تلاش کر رہے ہیں۔
6
तूल-ए-अमल का रस्ता मुमकिन नहीं कि तय हो मंज़िल पे भी पहुँच कर मंज़िल को ढूँडते हैं
طول امل کا رستہ ممکن نہیں کہ طے ہو منزل پہ بھی پہنچ کر منزل کو ڈھونڈتے ہیں
طویل امیدوں اور خواہشات کا راستہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسان منزل پر پہنچ کر بھی پھر کسی منزل کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔
7
हसरत शबाब की है अय्याम-ए-शेब में भी मादूम की हवस है ज़ाइल को ढूँडते हैं
حسرت شباب کی ہے ایام شیب میں بھی معدوم کی ہوس ہے زائل کو ڈھونڈتے ہیں
بڑھاپے کے دنوں میں بھی جوانی کی حسرت باقی ہے؛ ہم اس چیز کی خواہش کر رہے ہیں جو معدوم ہو چکی ہے اور جو ختم ہو چکا ہے اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔
8
उठते हैं वलवले कुछ हर बार दर्द बन कर क्या जानिए जिगर को या दिल को ढूँडते हैं
اٹھتے ہیں ولولے کچھ ہر بار درد بن کر کیا جانیے جگر کو یا دل کو ڈھونڈتے ہیں
ہر بار کچھ جوش اور ولولے درد کی صورت بن کر اٹھتے ہیں، معلوم نہیں کہ وہ دل کو ڈھونڈ رہے ہیں یا جگر کو تلاش کرتے ہیں۔
9
ज़ख़्म-ए-जिगर का मेरे है रश्क दोस्तों को मरता हूँ मैं कि ये क्यूँ क़ातिल को ढूँडते हैं
زخم جگر کا میرے ہے رشک دوستوں کو مرتا ہوں میں کہ یہ کیوں قاتل کو ڈھونڈتے ہیں
10
अहल-ए-हवस की कश्ती यक बाम ओ दो हवा है दरिया-ए-इश्क़ में भी साहिल को ढूँडते हैं
اہل ہوس کی کشتی یک بام و دو ہوا ہے دریائے عشق میں بھی ساحل کو ڈھونڈتے ہیں
11
आया जो रहम मुझ पर इस में भी चाल है कुछ सीने पे हाथ रख कर अब दिल को ढूँडते हैं
آیا جو رحم مجھ پر اس میں بھی چال ہے کچھ سینہ پہ ہاتھ رکھ کر اب دل کو ڈھونڈتے ہیں
12
करते हैं कार-ए-फ़रहाद आसाँ ज़मीन में भी मुश्किल-पसंद हैं हम मुश्किल को ढूँडते हैं
کرتے ہیں کار فرہاد آساں زمین میں بھی مشکل پسند ہیں ہم مشکل کو ڈھونڈتے ہیں
13
ऐ ख़िज़्र पय-ए-ख़जिस्ता बहर-ए-ख़ुदा करम कर भटके हुए मुसाफ़िर मंज़िल को ढूँडते हैं
اے خضر پئے خجستہ بہر خدا کرم کر بھٹکے ہوئے مسافر منزل کو ڈھونڈتے ہیں
14
दिल-ख़्वाह तेरे इश्वे दिल-जू तिरे इशारे वो दिल टटोलते हैं ये दिल को ढूँडते हैं
دل خواہ تیرے عشوے دل جو ترے اشارے وہ دل ٹٹولتے ہیں یہ دل کو ڈھونڈتے ہیں
15
ऐ 'नज़्म' क्या बताएँ हज्ज-ओ-तवाफ़ अपना काबे में भी किसी की महमिल को ढूँडते हैं
اے نظمؔ کیا بتائیں حج و طواف اپنا کعبے میں بھی کسی کی محمل کو ڈھونڈتے ہیں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں | Sukhan AI