“Even in the days of old age, the longing for youth remains; we crave what is non-existent, seeking that which has faded away.”
بڑھاپے کے دنوں میں بھی جوانی کی حسرت باقی ہے؛ ہم اس چیز کی خواہش کر رہے ہیں جو معدوم ہو چکی ہے اور جو ختم ہو چکا ہے اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔
یہ شعر انسانی دل کی ایک اداس مگر سچی کیفیت بیان کرتا ہے کہ جسم تو بوڑھا ہو جاتا ہے مگر خواہشات کبھی ضعیف نہیں ہوتیں۔ بڑھاپے کی دہلیز پر بھی دل کے گوشے میں جوانی کے وہی خواب اور امنگیں کروٹیں لیتی رہتی ہیں۔ شاعر نے کتنی خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ انسان اکثر اسی چھاؤں کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے جو وقت کی دھوپ میں کب کی تحلیل ہو چکی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
