“Fruit-laden boughs bear witness to the gracious art of generosity; bowing their heads so low, they seek out those who ask.”
پھلوں سے لدی ہوئی شاخیں عطا و سخاوت کے طور طریقے کی گواہ ہیں، جو اپنا سر اس طرح جھکاتی ہیں جیسے کسی مانگنے والے کو تلاش کر رہی ہوں۔
یہ شعر سخاوت اور عاجزی کی ایک دل موہ لینے والی تمثیل پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب درخت کی شاخیں پھلوں سے لد جاتی ہیں تو وہ فخر سے اکڑنے کے بجائے جھک جاتی ہیں، گویا خود کسی سائل کو تلاش کر کے اس کی جھولی بھرنا چاہتی ہوں۔ اصل کرم اور بڑائی یہی ہے کہ انسان عطا کرتے وقت احسان نہ جتائے، بلکہ تواضع کے ساتھ ضرورت مند کا دامن خوشیوں سے بھر دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
