“Having pierced right through the heart, they search for the heart again; the arrows of her glance still seek their wounded prey.”
اس کی نگاہ کے تیر دل کے آر پار ہو جانے کے بعد پھر اسی دل کو تلاش کرتے ہیں، گویا وہ تیر اپنے گھائل شکار کو ڈھونڈ رہے ہیں۔
اس شعر میں محبوب کے تیرِ نگاہ کے سحر اور اس کی شدت کا بڑا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے۔ نگاہ کے یہ تیر دل کے آر پار نکل جانے کے بعد بھی نہیں تھمتے، بلکہ اپنے ہی گھائل کیے ہوئے بسمل کو دوبارہ نشانہ بنانے کے لیے تلاش کرتے ہیں۔ یہ عشق کی وہ پرکشش اور لذیذ اذیت ہے جس میں عاشق فنا ہو کر بھی محبوب کی نظروں کا بار بار شکار بننے کی تمنا کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
