“The path of endless longing can never reach an end; even upon arriving, we still seek the destination.”
طویل امیدوں اور خواہشات کا راستہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا، کیونکہ انسان منزل پر پہنچ کر بھی پھر کسی منزل کی تلاش میں لگا رہتا ہے۔
یہاں 'طولِ امل' سے مراد انسان کی نہ ختم ہونے والی خواہشات اور لمبی امیدوں کا سلسلہ ہے۔ شاعر انسانی فطرت کی اس بے چینی کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں کہ انسان جس منزل کی آرزو میں زندگی گزار دیتا ہے، وہاں پہنچ کر بھی اسے قرار نہیں ملتا۔ ایک تمنا پوری ہوتے ہی دل کسی نئی منزل کا متلاشی بن جاتا ہے، اس لیے یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
