اٹھتے ہیں ولولے کچھ ہر بار درد بن کر کیا جانیے جگر کو یا دل کو ڈھونڈتے ہیں

“Surges of passion rise each time, turning into pain; who knows whether they search for the liver or the heart?”

— نظم طباطبائی
معنی

ہر بار کچھ جوش اور ولولے درد کی صورت بن کر اٹھتے ہیں، معلوم نہیں کہ وہ دل کو ڈھونڈ رہے ہیں یا جگر کو تلاش کرتے ہیں۔

تشریح

شاعر نے یہاں دل میں انگڑائی لینے والی امنگوں اور ولولوں کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے جو خوشی لانے کے بجائے فوراً ایک سلگتی ہوئی کسک بن جاتے ہیں۔ کلاسیکی روایت میں دل محبت اور آرزو کا گہوارہ ہے، جبکہ جگر صدمے اور داغ جھیلنے کا نشان۔ شاعر بڑی حیرت اور سادگی سے پوچھتا ہے کہ سینے سے اٹھنے والے یہ درد کے جھونکے آخر کسے تلاش کر رہے ہیں—اس دل کو جو تمنا کرتا ہے یا اس جگر کو جو خون بن کر جلتا ہے؟

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.