غزل
تھے آگے بہت جیسے کہ خوش یار ہمیں سے
تھے آگے بہت جیسے کہ خوش یار ہمیں سے
Source: Kulliyaat-e-Nazeer Akbarabadi (1922) · HI
نغمہ سنیں
1
थे आगे बहुत जैसे कि ख़ुश यार हमें से
ऐसे ही तुम अब रहते हो बेज़ार हमें से
تھے آگے بہت جیسے کہ خوش یار ہمیں سے
ایسے ہی تم اب رہتے ہو بیزار ہمیں سے
جیسے پہلے بہت سے لوگ ہم سے خوش رہتے تھے، ویسے ہی اب تم بھی ہم سے بیزار رہنے لگے ہو۔
2
हैं सब से तो इस माह इशारात वलेकिन
रहती हो फिरी अबरू-ए-ख़मदार हमें से
ہیں سب سے تو اس ماہ اشارات ولیکن
رہتی ہو پھری ابروئے خمدار ہمیں سے
یہ ماہ جیسی محبوبہ سب کی طرف اشارے کرتی ہے، مگر اس کی خمدار ابرو ہم ہی سے پھری رہتی ہے۔
3
महफ़िल में जो देखा तो उधर तुम हो ख़फ़ा और
साक़ी को भी हो सोहबत-ओ-तकरार हमें से
محفل میں جو دیکھا تو اُدھر تم ہو خفا اور
ساقی کو بھی ہو صحبت و تکرار ہمیں سے
محفل میں جب نظر دوڑائی تو اُدھر تم مجھ سے ناراض ہو، اور ساقی کی بھی گفتگو اور جھگڑا مجھی سے ہے۔
4
और दिन से जो कहते हो कि हम आज हैं नाख़ुश
उसको तो फ़क़त करना ही इज़हार हमें से
اور دن سے جو کہتے ہو کہ ہم آج ہیں ناخوش
اُسکو تو فقط کرنا ہی اظہار ہمیں سے
تم جو کہتے ہو کہ آج ہم باقی دنوں سے زیادہ ناخوش ہیں، تو یہ بات تو ہمیں تم سے صرف ظاہر ہی کرنی تھی۔
5
गुलगश्त-ए-चमन करते हो जब हमराह-ए-यारान
वाँ भी ग़रज़ आती हो तुम्हें ख़ार हमें से
گلگشت چمن کرتے ہو جب ہمراہ یاران
واں بھی غرض آتی ہو تمھیں خار ہمیں سے
جب تم اپنے دوستوں کے ساتھ باغ کی سیر کرتے ہو، تو وہاں بھی بوقتِ ضرورت تم مجھے اپنے راستے کا کانٹا سمجھ لیتے ہو۔
6
इक़रार-ए-मुलाक़ात हो हर इक से ब-सद मेहर
की ग़ौर तो होगा तुम्हें इंकार हमें से
اقرار ملاقات ہو ہر اک سے بصد مہر
کی غور تو ہوگا تمھیں انکار ہمیں سے
تم ہر کسی سے سو گنا محبت کے ساتھ ملاقات کا وعدہ کرتے ہو؛ مگر اگر غور کرو تو انکار صرف مجھ ہی سے کیا جاتا ہے۔
7
समझेगा जो रहते को नज़ीर अहल-ए-वफ़ा के
तो मिलने लगेगा वो तरहदार हमें से
سمجھے گا جو رہتے کو نظیرؔ اہل وفا کے
تو ملنے لگے گا وہ طرحدار ہمیں سے
جب وہ نظیرؔ اہلِ وفا کے درمیان رہنے کا سلیقہ سیکھ لے گا، تب وہ خوبصورت محبوب ہم سے ملنے لگے گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
