محفل میں جو دیکھا تو اُدھر تم ہو خفا اور — نظیر اکبرآبادی

محفل میں جو دیکھا تو اُدھر تم ہو خفا اور ساقی کو بھی ہو صحبت و تکرار ہمیں سے

“When I looked through the gathering, there you stood, displeased with me; and even the cup-bearer picks his quarrel and his talk with me.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

محفل میں جب نظر دوڑائی تو اُدھر تم مجھ سے ناراض ہو، اور ساقی کی بھی گفتگو اور جھگڑا مجھی سے ہے۔

تشریح

ذرا اُس بے چارے عاشق کی حالت سوچیے — بھری محفل میں جدھر نگاہ ڈالی، اُدھر محبوب خفا بیٹھا ہے، اور اوپر سے ساقی بھی اُسی سے الجھنے اور تکرار پر تُلا ہوا ہے۔ یہ شعر اُس مزاحیہ مگر درد بھری بے کسی کو بیان کرتا ہے جہاں عاشق کو ہر طرف سے شکوے ہی ملتے ہیں، گویا ساری دنیا اُسی سے ناراض ہو۔ مگر اِس شکایت کے نیچے ایک لطیف طنز بھی ہے — شاید اِسی بے چارگی میں اُس کی کشش چھپی ہے کہ ہر کوئی اُسی سے بات کرنا، اُسی سے جھگڑنا چاہتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.