اقرار ملاقات ہو ہر اک سے بصد مہر — نظیر اکبرآبادی
“You promise a tryst to every one with a hundredfold tenderness; yet, if you reflect on it, denial is reserved for me alone.”
معنی
تم ہر کسی سے سو گنا محبت کے ساتھ ملاقات کا وعدہ کرتے ہو؛ مگر اگر غور کرو تو انکار صرف مجھ ہی سے کیا جاتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں عاشق کی وہی دیرینہ شکایت ہے جو ہر دل کی داستان بن جاتی ہے۔ محبوب ہر کسی سے بڑی نرمی اور مہربانی کے ساتھ ملاقات کا وعدہ کرتا ہے، مگر جب بات عاشق کی آتی ہے تو صرف انکار ہی اس کے حصے میں آتا ہے۔ اس میں چھپا درد یہ ہے کہ ساری دنیا پر برسنے والی مہر سے وہ تنہا محروم رہ جاتا ہے — اور شاید یہی خاص سلوک، یہی الگ رکھا جانا، ایک عجیب سی قربت کا اشارہ بھی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
