اور دن سے جو کہتے ہو کہ ہم آج ہیں ناخوش — نظیر اکبرآبادی

اور دن سے جو کہتے ہو کہ ہم آج ہیں ناخوش اُسکو تو فقط کرنا ہی اظہار ہمیں سے

“That more than other days you say we are displeased today— it is but a confession we were bound to make to you.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

تم جو کہتے ہو کہ آج ہم باقی دنوں سے زیادہ ناخوش ہیں، تو یہ بات تو ہمیں تم سے صرف ظاہر ہی کرنی تھی۔

تشریح

اس شعر میں شکایت اور اقرار دونوں کی ایک نازک کشمکش ہے۔ محبوب کہتا ہے کہ آج تم کچھ زیادہ ہی ناخوش دکھائی دیتے ہو، اور شاعر جواب دیتا ہے کہ یہ تو بس ایک اعتراف تھا جو اسے کرنا ہی تھا — دل کی وہ بات جو آخرکار زبان پر آ گئی۔ اس میں وہ میٹھا تضاد ہے جہاں ناراضگی بھی اپنے انداز میں محبت کا اظہار بن جاتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.