تھے آگے بہت جیسے کہ خوش یار ہمیں سے — نظیر اکبرآبادی
“Once there were many who, like you, took joy in me; And just like them, you now grow weary, aloof from me.”
معنی
جیسے پہلے بہت سے لوگ ہم سے خوش رہتے تھے، ویسے ہی اب تم بھی ہم سے بیزار رہنے لگے ہو۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک ایسے دکھ کو چھوتا ہے جو اس کی زندگی میں بار بار لوٹ آتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ پہلے بھی بہت سے یار تھے جو مجھ سے خوش رہتے تھے، مگر رفتہ رفتہ سب مجھ سے بیزار ہو گئے — اور اب تم بھی اسی راہ پر چل پڑے ہو۔ 'پہلے ویسے' اور 'اب ایسے' کا یہ دہراؤ اس تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ محبت میں اس کا نصیب یہی رہا ہے: ابتدا کی گرمی اور انجام کی بے رخی۔ اس میں ایک تھکا ہوا، سمجھ دار درد ہے، گویا وہ جان چکا ہے کہ ہر رشتے کا انجام یہی ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
