غزل
جوش نشاط و عیش ہے ہر جا بسنت کا
جوش نشاط و عیش ہے ہر جا بسنت کا
Source: Kulliyaat-e-Nazeer Akbarabadi (1922) · HI
نغمہ سنیں
1
जोश-ए-निशात-ओ-ऐश है हर जा बसंत का
हो तुर्फ़ा रोज़गार तरब-ज़ा बसंत का
جوش نشاط و عیش ہے ہر جا بسنت کا
ہو طرفہ روزگار طرب زا بسنت کا
ہر جگہ بسنت کے باعث خوشی اور عیش کا جوش ہے؛ بسنت کا یہ زمانہ نرالا اور طرب سے بھرا ہوا ہے۔
2
बाग़ों में लुत्फ़-ए-नश्व-ओ-नुमा की हैं कसरतें
पुर मुर्ग़ीन-ए-नग़्मा ख़ुश-दिली-अफ़्ज़ा बसंत का
باغوں میں لطف نشو و نما کی ہیں کثرتیں
پُر مرغین نغمہ خوشدلی افزا بسنت کا
باغوں میں نشو و نما کے لطف کی کثرت ہے؛ نغمہ سرا پرندوں سے بھرا ہوا بسنت دلوں کی خوشی کو بڑھاتا ہے۔
3
फिरते हैं कर लिबास बसंती ओ दिलबरान
है चश्मे ज़र-निगार सरापा बसंत का
پھرتے ہیں کر لباس بسنتی و دلبران
ہے چشمے زرنگار سراپا بسنت کا
محبوب و عاشق بسنتی رنگ کا لباس پہن کر گھوم رہے ہیں، اور زرنگار آنکھ سر سے پاؤں تک بسنت ہی کا سراپا بنی ہوئی ہے۔
4
चादर पे यार के ये कहा हमने सुब्ह-दम
ऐ जान हुआ तो बहर-ए-मन चर्चा बसंत का
چادر پہ یار کے یہ کہا ہمنے صبح دم
ای جان ہوا تو بہر من چرچا بسنت کا
صبح دم میں نے اپنے محبوب کی چادر پر یہ کہا کہ اے جان، اب ہو گیا تو میرے لیے بسنت کا چرچا پھیل جائے۔
5
तशरीफ़ तुम न लाए जो कर कर बसंती पोश
कहिए गुनाह हमने किया क्या बसंत का
تشریف تم نہ لائے جو کر کر بسنتی پوش
کہیے گناہ ہمنے کیا کیا بسنت کا
تم بسنتی لباس پہن کر تشریف نہ لائے، تو بتاؤ بسنت کے موقع پر ہم نے بھلا کیا گناہ کیا تھا؟
6
सुनते ही इस बहार से निकला कि चुपके तईं
दिल देखते ही हो गया शैदा बसंत का
سنتے ہی اِس بہار سے نکلا کہ چپکے تئیں
دل دیکھتے ہی ہو گیا شیدا بسنت کا
اِس بہار کا ذکر سنتے ہی دل چپکے سے نکل پڑا، اور پہلی ہی نظر میں بسنت کے عشق میں دیوانہ ہو گیا۔
7
अपना वो ख़ुश-लिबास बसंती दिखा नज़ीर
चमकाया हुस्न-ए-यार ने क्या क्या बसंत का
اپنا وہ خوش لباس بسنتی دکھا نظیر
چمکا یا حُسن یار نے کیا کیا بسنت کا
اے نظیر، اپنا وہ خوبصورت بسنتی رنگ کا لباس دکھاؤ؛ دیکھو، محبوب کے حُسن نے بسنت کو کتنا چمکا دیا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
