جوش نشاط و عیش ہے ہر جا بسنت کا — نظیر اکبرآبادی

جوش نشاط و عیش ہے ہر جا بسنت کا ہو طرفہ روزگار طرب زا بسنت کا

“The surge of joy and pleasure fills each place with spring's delight, How wondrous is the season that spring's rapture brings to light.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

ہر جگہ بسنت کے باعث خوشی اور عیش کا جوش ہے؛ بسنت کا یہ زمانہ نرالا اور طرب سے بھرا ہوا ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر بسنت کے موسم کی اُس خوشی اور مسرت کو بیان کر رہا ہے جو ہر جگہ، ہر کونے میں پھیلی ہوئی ہے۔ 'جوش نشاط و عیش' یعنی آنند اور سکھ کی لہر جیسے چاروں طرف اُمڈ آئی ہے، اور شاعر اِسے ایک انوکھا اور نرالا زمانہ کہتا ہے جو دلوں میں طرب یعنی خوشی جگا دیتا ہے۔ یہ محض فطرت کا رنگ نہیں بلکہ زندگی کے اُس لمحے کا جشن ہے جب ہر چیز نئی اُمنگ سے بھر اُٹھتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.