باغوں میں لطف نشو و نما کی ہیں کثرتیں — نظیر اکبرآبادی
“In gardens the delights of growth and blossoming abound in plenty, Full of song-birds, the joy-enhancing spring brims over with its bounty.”
معنی
باغوں میں نشو و نما کے لطف کی کثرت ہے؛ نغمہ سرا پرندوں سے بھرا ہوا بسنت دلوں کی خوشی کو بڑھاتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر بسنت کے موسم کی رونق کو اتنی محبت سے بیان کرتے ہیں کہ باغ ہری بھری زندگی سے لبریز دکھائی دینے لگتے ہیں — ہر پتی، ہر کلی بڑھنے اور کھلنے کے لطف سے معمور ہے۔ چہچہاتے پرندوں سے گونجتا یہ موسم محض آنکھوں کو نہیں بلکہ دل کو بھی خوشی سے بھر دیتا ہے۔ اس خوبصورتی میں ایک نرم سچائی چھپی ہے کہ فطرت کی تازگی دراصل ہمارے دل کی تازگی کا آئینہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
