پھرتے ہیں کر لباس بسنتی و دلبران — نظیر اکبرآبادی
“Clad in the saffron robes of spring the lovers roam about, from head to toe the gold-adorned eye is the very self of spring.”
معنی
محبوب و عاشق بسنتی رنگ کا لباس پہن کر گھوم رہے ہیں، اور زرنگار آنکھ سر سے پاؤں تک بسنت ہی کا سراپا بنی ہوئی ہے۔
تشریح
ذرا تصور کیجیے — بہار آ چکی ہے اور عاشق بسنتی زرد لباس پہنے یوں پھر رہے ہیں جیسے وہ خود موسمِ بہار کا پیکر بن گئے ہوں۔ شاعر کہتا ہے کہ ’چشمِ زرنگار‘، یعنی سنہری چمک سے آراستہ وہ نظر یا منظر، سر سے پاؤں تک بسنت ہی کا سراپا ہے۔ یہاں کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ باہر کا سنہری موسم اور دل کے اندر کی امنگ ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
