سنتے ہی اِس بہار سے نکلا کہ چپکے تئیں — نظیر اکبرآبادی
“The moment I heard of this springtime, so softly it slipped out, the heart, at the very first sight, grew mad with love of spring.”
معنی
اِس بہار کا ذکر سنتے ہی دل چپکے سے نکل پڑا، اور پہلی ہی نظر میں بسنت کے عشق میں دیوانہ ہو گیا۔
تشریح
اس شعر میں بہار کا ذکر سنتے ہی دل بے قرار ہو اٹھتا ہے — جیسے خوشبو کی طرح کوئی احساس چپکے سے باہر نکل آیا ہو۔ شاعر کہتا ہے کہ بہار کو دیکھتے ہی دل اس کا شیدا ہو گیا، جیسے کوئی پہلی ہی نظر میں عشق میں کھو جائے۔ یہاں بسنت صرف موسم نہیں بلکہ حسن اور تازگی کی وہ صورت ہے جو دل کو بے اختیار کر دیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
