چادر پہ یار کے یہ کہا ہمنے صبح دم — نظیر اکبرآبادی
“Upon my love's own shawl at break of dawn I softly said, My dear, it came — so for my sake let talk of springtime spread.”
معنی
صبح دم میں نے اپنے محبوب کی چادر پر یہ کہا کہ اے جان، اب ہو گیا تو میرے لیے بسنت کا چرچا پھیل جائے۔
تشریح
صبح کے نرم اجالے میں عاشق اپنے محبوب کی چادر پر جھک کر یہ التجا کرتا ہے کہ بہار کی بات چھیڑی جائے — اُس کی خاطر۔ یہاں بسنت صرف موسم نہیں بلکہ محبت، اُمنگ اور دل کے کھلتے رنگوں کی علامت ہے۔ 'بہرِ من' یعنی 'میرے لیے' کہہ کر شاعر اِس خوشی کو نہایت ذاتی اور نازک بنا دیتا ہے، گویا ساری کائنات کی بہار اُس کے محبوب کے گرد گھوم رہی ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
