غزل
ہمدم چھپا وے دان کوئی کیا دلکی چاہ کو
ہمدم چھپا وے دان کوئی کیا دلکی چاہ کو
Source: Kulliyaat-e-Nazeer Akbarabadi (1922) · HI
نغمہ سنیں
1
हमदम छुपा वे दान कोई क्या दिलकी चाह को
शाहिद जहान समझते हैं पहली निगाह को
ہمدم چھپا وے دان کوئی کیا دلکی چاہ کو
شاہد جہان سمجھتے ہیں پہلی نگاہ کو
اے ہمدم، دل کی چاہت کو بھلا کوئی کیسے چھپا سکتا ہے؟ ساری دنیا پہلی ہی نظر میں اسے سمجھ لیتی ہے۔
2
दिखला हिनाई दस्त लिया झपटे दीन-ओ-दिल
क्या दस्तरस हो देखिए इस दस्तगाह को
دکھلا حنائی دست لیا جھپٹے دین و دل
کیا دسترس ہو دیکھیے اس دستگاہ کو
حنا لگے ہاتھ دکھا کر اُس نے پل بھر میں دین و دل دونوں چھین لیے؛ اب دیکھیں کہ اِس ماہر دستکاری پر ہمارا کتنا بس چلتا ہے۔
3
बैठा जो चाँदनी में तो रुख़ की झलक दिखा
ख़िजलत थी कौन सी कि न दी रू-ए-माह को
بیٹھا جو چاندنی میں تو رخ کی جھلک دکھا
خجلت تھی کون سی کہ نہ دی روے ماہ کو
جب تم چاندنی میں بیٹھے تو اپنے چہرے کی جھلک دکھائی—ایسی کون سی شرمندگی تھی جو تم نے چاند کے چہرے کو نہ دی؟
4
नासिह तो रास्त कहता हो लेकिन वो क्या करे
दे बैठे अपना दिल जो किसी कज-कुलाह को
ناصح تو راست کہتا ہو لیکن وہ کیا کرے
دے بیٹھے اپنا دل جو کسی کج کلاہ کو
ناصح بے شک سچ ہی کہتا ہو، مگر وہ کیا کرے جس نے اپنا دل کسی بانکے کج کلاہ محبوب کو دے بیٹھا ہے۔
5
झिड़की से उसने हमको ख़फ़ा देख कर कहा
क्या तापते लगते हो इस रस्म-ओ-राह को
جھڑکی سے اُسنے ہمکو خفا دیکھ کر کہا
کیا تاپتے لگتے ہو اس رسم و راہ کو
جب اُس نے جھڑکی سے مجھے ناراض دیکھا تو کہا کہ اس رشتے ناتے کی رسم پر تم کیوں اتنے تپتے جلتے ہو۔
6
जाती हैं झिड़कें नहीं हमारी वो लज़्ज़तें
जो चाह में समझते हैं बेहतर निगाह को
جاتی ہیں جھڑکیں نہیں ہماری وہ لذتین
جو چاہ میں سمجھتے ہیں بہتر نگاہ کو
جھڑکیاں چلی جائیں تو جائیں، مگر ہماری وہ لذتیں نہیں جاتیں، کیونکہ جو محبت میں ہوتے ہیں وہ جھڑکتی ہوئی نگاہ کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔
7
गर आर है कुछ इसमें तुम्हें तो कुछ ऐ मियाँ
लेजाओ अपने पास दिल-ए-इज़्ज़त-पनाह को
گر عار ہے کچھ اسمیں تمھیں تو کچھ ای میان
لیجاؤ اپنے پاس دلِ عزت پناہ کو
اگر تمہیں اس میں کچھ شرم یا اعتراض ہے، تو اے میرے پیارے، اس عزت کی پناہ دینے والے دل کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
